ابنا: علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا: خوف میں انسانوں کا امتحان ہوتا ہے۔ ٹارگٹ کلرز بھی خوف و ہراس پھیلا کر اپنے ناپاک اورمکروہ عزائم کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لٰہذا دشمنان اسلام کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے ہمیں ٹارگٹ کلنگ کا ضرورمقابلہ کرنا چاہیئے؛ لیکن اس سے گھبرانے اورخوف وہراس میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اسلام میں قرآن کی روسے نہ ظلم کرنے کی اجازت ہے۔ اورنہ ہی ظلم کوبرداشت کرنے کی اجازت ہے۔ تمام مسلمانوں کومل کریہودی سازشوں کے خلاف آوازبلند کرنا چاہیئے۔ انھوں نے بلوچستان اورخاص کرکوئٹہ شہرکے تمام برادراقوام سے اپیل کی کہ انسانیت اوراسلام کی بنیاد پرٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کیلئے کردارادا کریں۔ بلوچستان میں قبائلی رسم ورواج کے مطابق جس علاقے میں کسی کی بکری گم ہوجائے تواس علاقے کے لوگ ذمہ دارٹہرائے جاتے ہیں۔اگربلوچستان میں آباد تمام برادراقوام اپنی اس رسم کے مطابق ٹارگٹ کلرز کی اپنے اپنے علاقوں میں نشاندہی کریں توٹارگٹ کلنگ کا جلد خاتمہ ہوسکتا ہے۔ انھوں نے انتباہ کیا کہ دہشتگردی کی جوآگ لگائی گئی ہے یہ تمام شہراورملک کواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے کیونکہ ٹارگٹ کلرکرائے لے کر ٹارگٹ کرتا ہے۔ کل یہ ٹارگٹ کلرزاپنے مالکوں کوبھی سانپ کی طرح ڈس سکتا ہے ۔انہوں نے (13 جمادی الاول ) روزشہادت حضرت فاطمہ زہرا (س) کی مناسبت سے حضرت زہرا کے مصائب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد امت نے بے وفائی کرتے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اکلوتی بیٹی پر بے پناہ مظالم ڈھائے جس سے بی بی دوعالم ملکہ اسلام شہید ہوگئیں۔۔۔۔۔۔۔۔
/110